کاروار،2؍مئی (ایس او نیوز) ملاّپور کے کائیگا پلانٹ میں اتر اکھنڈ سے آنے والے 8ٹیکنیکل ایکسپرٹس کو کسی قسم کی طبی جانچ کیے بغیر پلانٹ کے اندر داخل ہونے کی اجازت پر کائیگا کی انتظامیہ پر مقامی لوگوں نے سوال اٹھائے ہیں۔
کائیگا میں تعینات کاروار اور اطراف سے تعلق رکھنے والے عملے کاکہنا ہے کہ ہم لوگوں کو کوارنٹین کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لئے نیشنل پاور کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی ایل)کی طرف سے ہم سے طبی جانچ کروانے اور صحت مند ہونے کا سرٹفکیٹ لانے کی مانگ کی جاتی ہے۔ لیکن اتر اکھنڈ کے ہری دوار جیسے دور دراز مقام سے موٹر کار پر سفر کرکے آنے والے ماہرین کو بغیر کسی جانچ کے اندر داخلہ دیا گیاہے، حالانکہ لمبے سفر کے دوران وہ لوگ کئی ریڈ زون علاقوں سے گزر کر آئے ہیں۔ ان کے کار کے ڈرائیور کا بھی طبی معائنہ نہیں کروایا گیا ہے۔
ملاپور گرام پنچایت کے صدر راجیش گاؤنکر نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے ایک قانون اور ان کے لئے ایک اور قانون ہوتا ہے؟یہ لوگ ریڈ زون سے گزر کر آئے ہیں۔ ایک عام آدمی کے گھر پر کوئی بھی آتا ہے تو پولیس والے اور آشا کارکنان وہاں پہنچ کر اسے ہوم کوارنٹین میں رہنے کا حکم دیتے ہیں۔لیکن اتر اکھنڈ سے آنے والوں میں سے کسی کو بھی ہوم کوارنٹین نہیں کیا گیا، بلکہ سیدھے پلانٹ میں داخلے کی اجازت دی گئی۔اس وجہ سے کل اگر کسی کو وبائی وائرس متاثر کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس کا جواب کائیگا کے افسران کو دینا ہوگا۔
دوسری طرف کائیگا اٹامک اینرجی پلانٹ کے سائٹ ڈائریکٹر نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونٹ نمبر ۲ میں جنریٹر کا کنڈکٹر خراب ہونے کی وجہ سے اس کو بدلنا پڑا ہے۔اس کے لئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے اتراکھنڈ ہری دوار میں واقع ایک نجی کمپنی سے رابطہ قائم کرکے ماہرین کو بھیجنے کی مانگ کی گئی تھی۔اس کے لئے ہری دوار اور ضلع شمالی کینرا کی انتظامیہ سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔ ان کی آمد رفت کے لئے گرین زون والا روٹ میاپ ضلع انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیا گیا تھااس لئے انہوں نے بشمول بیلگاوی کسی بھی ریڈ زون والے علاقے سے سفر نہیں کیا ہے۔کاروار پہنچتے ہی اسسٹنٹ کمشنر کی اجازت سے ڈسٹرکٹ اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کیاگیا ہے۔صحت سے متعلق کوئی مسئلہ نہ ہونے کی رپورٹ ملنے کے بعد انہیں ملاپور کے پلانٹ میں الگ الگ گاڑیوں کے ذریعے لایا گیا ہے۔ہمارے یہاں ایک ہزارسے زیادہ افراد کام کرتے ہیں، ان کی صحت کی ہمیں فکر ہے۔ اس لئے کسی بھی مرحلے میں لاک ڈاؤن قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔